Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا

بیان میرٹھی

اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گا

میں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گا

وہ ہٹے آنکھ کے آگے سے تو بس صورت عکس

میں بھی اس آئنہ خانے سے نکل جاؤں گا

مہر تم سوختہ میں شیشۂ آتش ہے رقیب

اس پہ ڈالو گے تجلی تو میں جل جاؤں گا

مجھ سے کہتا ہے مرا دود جگر صورت شمع

دل میں روکو گے تو میں سر سے نکل جاؤں گا

شمع ساں برسر محفل نہ جلا دیکھ مجھے

پھیل جاؤں گا ستم گر جو پگھل جاؤں گا

ٹھہر اے مہر ذرا صبح شب وصل ہے آج

بام پر دھوپ چڑھے گی تو میں ڈھل جاؤں گا

روکتا ہوں کبھی شوخی سے تو ہر طفل سرشک

رو کے کہتا ہے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا

کار امروز بفردا مگذار اے واعظ

آج اس کوچہ میں ہوں خلد میں کل جاؤں گا

کون اٹھائے گا الٰہی شب غم کی افتاد

منہ کو آتا ہے کلیجہ کہ نکل جاؤں گا

لے کے آنکھوں میں ترا جلوہ کہاں جائے گا

غیر کو دیکھ کے میں آنکھ بدل جاؤں گا

ہر طرح ہاتھ میں ہوں گوشۂ دامن کی طرح

وہ سنبھالیں گے جو مجھ کو تو سنبھل جاؤں گا