Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے

اشرف علی فغاں

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے

دامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہے

ہے کہاں بوئے وفا اس دہن شیریں میں

غنچہ لب تیری زباں ہم نے بہت چوسی ہے

یار گو خون مرا مثل حنا ہو پامال

لیکن اپنے تئیں منظور قدم بوسی ہے

دل مرا خاک شگفتہ ہو چمن میں جا کر

گل میں یہ رنگ کہاں ایک تری بو سی ہے

ایک دن زلف کے منہ پر نہ چڑھی یہ کافر

یاد کاکل کو فقط شیوۂ جاسوسی ہے

وہ سجی تیغ کہ دم میں کرے لاکھوں کو قتل

کون کہتا ہے میاں تیری کمر مو سی ہے

شیخ روتا ہے اسے سن کے برہمن یکسو

پر اثر بس کہ مرا نالۂ ناقوسی ہے

چشم نمناک نے از بسکہ بجھایا اس کو

آتش عشق کہاں دل میں مگر لو سی ہے

اے فغاںؔ عشق کہاں دل میں بقول منتؔ

ہاں یہ سچ ملنے کی خوباں سے تو اک خو سی ہے