Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

بھنورے کی بے قراری

سرور جہاں آبادی

نہ وہ کیتکی کی پھبن رہی

نہ وہ موتیا کی ادا رہی

نہ وہ نسترن نہ سمن رہی

نہ وہ گل رہے نہ فضا رہی

نہ گلوں کے اب ہیں وہ قہقہے

نہ وہ بلبلوں کے ہیں چہچہے

نہ غزل سرا وہ کوئی رہے

نہ وہ قمریوں کی صدا رہی

نہ وہ سرو ہے نہ وہ آب جو

نہ وہ ہم صفیر ہیں خوش گلو

نہ بنفشہ ہے نہ وہ ناز بو

نہ وہ جعفری نہ جفا رہی

نہ وہ صبح کی ہیں تجلیاں

نہ شفق کی آہ وہ جھلکیاں

نہ وہ اودی اودی ہیں بدلیاں

نہ وہ بھینی بھینی ہوا رہی

نہ امنگیں ہیں وہ شباب کی

نہ وہ پتیاں ہیں گلاب کی

نہ ہوا میں بو ہے شراب کی

مجھے مست تھی جو بنا رہی

وہ کنول غضب کے تھے دل ربا

جہاں اڑتے تھے مرے ہم نوا

مگر اب نہ ان کی ہے وہ ادا

نہ وہ بو رہی نہ صفا رہی

لب آب جو تھی فضا غضب

وہ بہار کی تھی ہوا عجب

مرے کنج میں مجھے روز و شب

مے بے خودی تھی پلا رہی

وہ غضب کی کو‌ کو وہ زمزمہ

وہ سریلی درد بھری صدا

سر شام سرو پہ فاختہ

مجھے لوریاں تھی سنا رہی

ہیں کنول کی خشک جو پتیاں

مری خواب گہ تھی کبھی یہاں

یہیں شب کو دے دے کے تھپکیاں

تھی نسیم مجھ کو سلا رہی

نہ گلوں میں بوئے وفا رہی

نہ وہ دل ربا ہی ادا رہی

نہ چمن رہا نہ فضا رہی

نہ وہ دن رہے نہ ہوا رہی

نہ روش ہے اب وہ سپہر کی

نہ گلوں میں بو ہے وہ مہر کی

کہ ہوا ہے گلشن دہر کی

مجھے سبز باغ دکھا رہی