Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیں

میر تسکین دہلوی

بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیں

سچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیں

عقدہ جو دل میں ہے مرے ہونے کا وا نہیں

جب تک کہ آپ کھولتے زلف دوتا نہیں

عیاری دیکھنا جو گلے ملنے کو کہو

کہتا ہے میں تو تم سے ہوا کچھ خفا نہیں

اشکوں کے ساتھ قطرۂ خوں تھا نکل گیا

سینے میں سے تو دل کو کوئی لے گیا نہیں

جلتا ہے سادہ لوحی پہ کیا اپنی جی مرا

دل لے کے اب جو بات وہ کرتا ذرا نہیں

وہ پر خطر ہے وادئ الفت کہ راہ میں

کہتے ہیں خضر ہائے کوئی رہنما نہیں

کرتا ہوں تیری زلف سے دل کا مبادلہ

ہر چند جانتا ہوں یہ سودا برا نہیں

کیسے وہ تلخ تر ہیں مرے شور عشق سے

قسمت سے اپنا چاہنے میں بھی مزا نہیں

جوش جنوں میں سر پہ اڑائیں کہاں سے خاک

دل کیا گیا غبار ہی جی میں رہا نہیں

دیکھوں تو لے ہے جان ملک الموت کس طرح

تم وقت مرگ پاس سے اٹھنا ذرا نہیں

تسکیںؔ نے نام لے کے ترا وقت مرگ آہ

کیا جانے کیا کہا تھا کسی نے سنا نہیں