Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتا

تو جہاں میں کچھ نہ ہوتا فقط انتظار ہوتا

ابھی کم ہے سوز الفت کہ نفس شرر فشاں ہے

اگر آگ تیز ہوتی تو یہ شعلہ بار ہوتا

دل و تیر خوں چکا کی وہ شبیہ کھینچ دیتا

جو لہو کا کوئی قطرہ سر نوک خار ہوتا

مجھے درد بھی تھا راحت مجھے غم بھی تھا مسرت

جو وہ مجھ کو رنج دے کر کبھی غم گسار ہوتا

جو بھرا ہے غم سے سینہ تو سکوت ہی ہے بہتر

کہ لبوں پر آہ آتی تو اک اشتہار ہوتا

کبھی یوں مٹا نہ سکتا اسے آسمان ظالم

ترے در پہ او ستم گر جو مرا مزار ہوتا

یہ حجاب جسم خاکی کہ ہے دید کا منافی

کبھی درمیاں سے اٹھتا تو وصال یار ہوتا

نہ ہوا اثر کسی پر مرے نالۂ حزیں کا

ترا تیر تھا نہ ظالم کہ جگر کے پار ہوتا

ابھی اور طول دیتے غم عشق کو نظرؔ ہم

اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا