Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تصویر خیالی

عظیم الدین احمد

جب اندھیرا ہوا ہر سو ہوئی خلقت خاموش

جب تعقل سے گئی چھوٹ حکومت کی عناں

مٹ چلا تھا ترے ارمان کا جب جوش و خروش

صبر کا یاس نے جب آن کے پکڑا داماں

غم کے باعث ہوا جب مثل شب تار دماغ

دل میں اور عقل میں برپا ہوئی جنگ و تکرار

لہریں لینے لگا جس وقت تمنا کا چراغ

یاس کا دیو جب آ کر ہوا سینے پہ سوار

جیب ہستی کے اڑا چاہتے ہی تھے پرزے

اس گھڑی قلب کے اندر ہوئی تو جلوہ نما

ایسی چمکی تری تصویر خیالی جیسے

آسماں پر شب تاریک میں تنہا تارا

اے منور کن تاریکیٔ چشم عاشق

اے مداوا کن آلام دل ہجر نصیب

اے بہ یک شعبدہ زائل کن خشم عاشق

اے بظاہر تو بہت دور مگر دل سے قریب

مہر و مہ سے ہے مبارک کہیں تیری تصویر

چھید سکتیں نہیں بدلی کو شعاعیں ان کی

ایسی ظلمت کو مٹا دیتی ہے تیری تنویر

جو مٹائے نہ مٹے روشنی ہو کوئی سی

آئے طوفان گرے برق کہ بادل برسے

تیری الفت کا شجر ٹل نہیں سکتا ہے کبھی

زلزلہ آئے زمیں کو کہ فلک ٹوٹ پڑے

پر یہ ممکن نہیں ہو تیری محبت میں کمی

ہاں مگر سن لے تو اے حسن کی مے سے سرشار

خار خار الم ہجر سے ہوں سخت حزیں

یاں یہ سن لے مرے سرمست ادا خوش گفتار

گھلتے گھلتے ترے غم میں ہوں میں اب مرگ قریں