Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتے

نشتر چھپروی

تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتے

بگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتے

درد دل بیتاب گھٹا کیوں نہیں دیتے

محفل سے رقیبوں کو اٹھا کیوں نہیں دیتے

کیوں ہے خفگی کس لئے ماتھے پہ شکن ہے

تقصیر مری آپ بتا کیوں نہیں دیتے

تم سے جو کیا کرتے ہیں ہر وقت دغائیں

اے حضرت دل ان کو دعا کیوں نہیں دیتے

مجبور ہوں میں کشمکش رنج و الم میں

تم آ کے مری جان چھڑا کیوں نہیں دیتے

تنگ آئے ہیں ہمسایہ جو فریاد سے میری

اس شوخ فسوں گر کو بلا کیوں نہیں دیتے

اک بوسۂ رخسار کا مدت سے ہوں سائل

ہیں آپ اگر اہل سخا کیوں نہیں دیتے

وہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ میں کس کو مٹاؤں

تربت کو مری لوگ بتا کیوں نہیں دیتے

مرتا ہوں میں تم پر جو کہا ان سے تو بولے

یہ سچ ہے تو پھر مر کے دکھا کیوں نہیں دیتے

وہ تذکرۂ صدمۂ ہجراں پہ شب وصل

بولے کہ اسے دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے

جب میں نے کہا تم سے حسیں اور بہت ہیں

کس ناز سے بولے کہ دکھا کیوں نہیں دیتے

کیوں قتل کی پرسش پہ سر حشر ہو خاموش

الزام رقیبوں پہ لگا کیوں نہیں دیتے

ہے نشترؔ ناشاد جھکائے ہوئے سر کو

تم جوہر شمشیر دکھا کیوں نہیں دیتے