Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے

عیش دہلوی

تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے

اپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بے زار رہے

زخم دل چھیلے کبھی اور کبھی زخم جگر

ناخن دست جنوں کب مرے بیکار رہے

ان جفاؤں کا مزہ تم کو چکھا دیویں گے

ہاں اگر زندہ ہم اے چرخ جفاکار رہے

مے کدے میں ہے بڑی یہ ہی مغاں کی پیری

کہ بس اس چشم سیہ مست سے ہشیار رہے

جلتے بھنتے رہے ہم بزم بتاں میں لیکن

شمع ساں اس پہ بھی سر دینے کو تیار رہے

یوں تو کیا خواب میں بھی یار کا ملنا معلوم

اپنے گر آہ یہی طالع بیدار رہے

ایک جا سینے میں ان دونوں کا رہنا ہے محال

یا یہ دل ہی رہے یا آہ شرربار رہے

اس سے دل خاک ہو امید حصول مطلب

جس سے اک بوسے پہ سو طرح کی تکرار رہے

لے کے پیکاں سے ترے تیر بتا تو قاتل

خون میں ڈوبے نہیں کب تا لب سوفار رہے

جنس دل آتش الفت میں جلے جو چاہے

پر کسی طرح تری گرمی بازار رہے

بازی عشق میں چپکے رہو کیا خاک کہیں

ایک دل رکھتے تھے پاس اپنے سو بار رہے

ایسا دم ناک میں آیا ہے کہ ہم راضی ہیں

عیشؔ گر سینے میں اس دل کے عوض خار رہے