Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دن

عبدالرحمان احسان دہلوی

تو بے نقاب ہے اے مہ یہ ہیں شراب کے دن

کہ ماہتاب کی راتیں ہیں آفتاب کے دن

جوان تو بھی ہے اپنے بھی ہیں شباب کے دن

بلا حساب دے بوسے نہیں حساب کے دن

ہوا سفید تری انتظار میں آخر

عجب طرح سے پھرے دیدۂ پر آب کے دن

ترے لبوں سے ہے روکش عجب طرح کے ہیں مست

لگے ہیں دن اسے کیوں کر پھریں شراب کے دن

قرار یہ تھا کہ اتوار کے دن آؤں گا

کہا تھا میں نے گئے میرے اضطراب کے دن

ہوا دو چند الم آہ روز یک شنبہ

وہ آفتاب مرا آیا آفتاب کے دن

وہ زلف مجھ پہ ہے بے وجہ رات دن برہم

کسی طرح سے نہ بڑھتی نہیں عتاب کے دن

جگر سے شعلے نکلتے ہیں چشم سے آنسو

اس آب و تاب سے کٹتے پیچ و تاب کے دن

نہ جاؤ شیخ جی آؤ قریب ہے ہولی

خفا نہ ہو کہ چلے آتے ہیں خطاب کے دن

پلائی مے رمضاں میں نہ مجھ کو اے ساقی

بڑے عذاب سے کٹتے ہیں یہ ثواب کے دن

عذاب ہجر بھی دوزخ سے کم نہیں احساںؔ

الٰہی مجھ کو نہ دکھلائیو عذاب کے دن