Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھا

شاہ اکبر داناپوری

تو نے خنجر مری گردن پہ نہ پھیرا اچھا

اچھا اچھا ارے او جان کے لیوا اچھا

سیر اچھی ہے ہجوم اچھا ہے میلا اچھا

حق تو یہ ہے کہ ہے دنیا کا تماشا اچھا

سر مرا کاٹ کے کس ناز سے فرماتے ہیں

کس لیا ہم نے یہ خنجر ہے ہمارا اچھا

درد جب اٹھتا ہے مجھ کو بھی اٹھا دیتا ہے

ناتوانی کے لئے ہے یہ سہارا اچھا

پھر چلے غیر کی جانب نگہ ناز کے تیر

کیوں نشانہ وہی پھر آپ نے تاکا اچھا

واہ کیا خوب مرے دل کی لگی ہے قیمت

کہتے ہیں مفت اگر دو تو ہے سودا اچھا

ایک وہ لاکھوں خریدار بڑھے نرخ نہ کیوں

اور پھر نام خدا مال ہے کیسا اچھا

صبح کو لطف ہے تفریح کا دریا کو چلو

وقت خوش سیر خوش آیند تماشا اچھا

مول لو تم مرا دل کھوٹے ہی داموں کو سہی

مجھ کو تو فائدوں سے ہے یہ خسارا اچھا

چار دیوار چمن اپنے لئے زنداں ہے

ہم سے دیوانوں کو ہے باغ سے صحرا اچھا

منقبض ہے جو طبیعت تو چمن جنگل ہے

دل شگفتہ ہے تو گلزار سے صحرا اچھا

دیکھ کر باغ کی دیواروں کو دم گھٹتا ہے

بلبلوں کو یہ مبارک ہمیں صحرا اچھا

مسئلہ ٹھیک ہے یہ جنس کو ہے جنس سے میل

کیوں نہ چاہے تمہیں دل دل ہے ہمارا اچھا

یہ ہے صورت اسے کہتے ہیں خدا داد جمال

حوروں سے ہے تری تصویر کا خاکہ اچھا

دل مرا لیتے ہو قیمت نہیں دیتے مجھ کو

تم سکھی کیسے ہو لینے سے ہے دینا اچھا

روح سے بڑھ کے ترا نیمچہ پیارا ہے مجھے

رگ جاں سے تری تلوار کا ڈورا اچھا

بزم ہستی سے اٹھے جو وہ یہی کہہ کے اٹھے

دل لگا خوب یہاں ہے یہ تماشا اچھا

شیخ ہو یا کوئی سید ہو کوئی ہو اکبرؔ

خوش رہے جس سے خدا ہے وہی بندا اچھا