Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھا

سید یوسف علی خاں ناظم

تیرے در سے میں اٹھا لیکن نہ میرا دل اٹھا

چھوڑ کر ہو جس طرح کاسہ کوئی سائل اٹھا

قیس کیا جانے کہ میرا دیکھنا منظور تھا

خود بخود ہو جب ہوا سے پردۂ محمل اٹھا

گریہ نے پہلے ہی اپنا کر رکھا تھا بندوبست

میں اٹھا بھی واں سے چلنے کو تو پا در گل اٹھا

بوسۂ عارض مجھے دیتے ہوئے ڈرتا ہے کیوں

لونگا کیا نوک زباں سے تری رخ کا تل اٹھا

جب اٹھا خنجر نہ اس سے اس ادا پر مر گئے

ہم سے بھی گویا نہ بار منت قاتل اٹھا

شکوۂ بار غم ہجراں ہے خط میں مندرج

نامہ بر کب ہو کے میرے نامی کا حائل اٹھا

غیر نے آ کر نہیں کی گدگدی گر خواب میں

نیند سے کیوں اس طرح ہنستا ہوا کھل کھل اٹھا

گرچہ رکھتا ہوں کہیں اور پاؤں پڑتا ہے کہیں

پر غنیمت ہے کہ ہے منہ جانب منزل اٹھا

اشک گو آتش نہیں ناظمؔ مگر تیزاب ہے

دیکھ چشم تر سے اپنی آستیں غافل اٹھا