Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہے

شوق قدوائی

تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہے

اک آگ ہے سو اتنی جلن آگ میں کب ہے

مانا کہ تم امید وفا کے نہیں قائل

پھر کیا مرے جینے کا کوئی اور سبب ہے

خوش ہوں ترے کینے سے کہ شرکت سے ہوں محفوظ

جتنا ترے دل میں ہے وہ میرے لئے سب ہے

حاجت نہیں کچھ اور پس مرگ مگر ایک

یعنی مجھے درکار تری جنبش لب ہے

زندہ رہوں کیوں میں کہ زباں ان سے ہو گستاخ

مرنے میں خموشی ہے خموشی میں ادب ہے

ہو ہجر تو پھر گور میں اور گھر میں ہے کیا فرق

جو گور کی ظلمت ہے وہی ہجر کی شب ہے

اظہار وفا ہے تو کس امید پہ اے شوقؔ

تو داد طلب اس سے کہ بیداد طلب ہے