Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیں

نشتر چھپروی

تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیں

پر نگاہ غلط انداز کو کیا کہتے ہیں

سامنے میرے تو دشمن کو برا کہتے ہیں

دشمنوں میں مجھے کیا جانے وہ کیا کہتے ہیں

جب کہا میں نے مجھے آپ برا کہتے ہیں

کس ڈھٹائی سے ستم گر نے کہا کہتے ہیں

چاہنے والوں کو اپنے جو برا کہتے ہیں

سوچتے بھی ہیں کبھی آپ کہ کیا کہتے ہیں

بے وفائی کا تری خلق گلہ کرتی ہے

اور ہم ہیں کہ تجھے جان وفا کہتے ہیں

لب ہلانا بھی تو اب مجھ کو ہوا ہے مشکل

میری ہر بات کو دشمن کا گلہ کہتے ہیں

مسکرا کر مجھے دیکھا کہ مری جان گئی

ناز کہتے ہیں اسے اس کو ادا کہتے ہیں

غیر جو چاہیں کہیں مجھ کو مگر یاد رہے

خوبرو ہیں وہ جو اوروں کو برا کہتے ہیں

زندگی ہے وہ حقیقت میں جو کہلاتی ہے موت

ہے وہی عین بقا جس کو فنا کہتے ہیں

غیر کہتا ہے برا مجھ کو تو کہنے دیجے

ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

ہم جو کہتے ہیں وہ بے جا ہے سراسر ہے غلط

اور اغیار جو کہتے ہیں بجا کہتے ہیں

کیا ستم ہے نہیں سنتے وہ فسانہ میرا

کہتے ہیں لوگ اسے ہوش ربا کہتے ہیں

گھر رقیبوں کے ضرور آپ گئے تھے چھپ کر

مجھ سے یہ آپ کے نقش کف پا کہتے ہیں

آہ کو میری سمجھتے ہیں نسیم گلشن

اور نالوں کو وہ اندوہ ربا کہتے ہیں

مجھ سے کیا پوچھتے ہو کیا تمہیں معلوم نہیں

کیوں مجھے کشتۂ انداز و ادا کہتے ہیں

آپ تو جور کے موجد ہیں جفا کے بانی

آپ کیا جانیں کہ کس شے کو وفا کہتے ہیں

ہے جنوں ان کو یہ آشفتہ سری ہے ان کی

گیسوئے یار کو جو شام بلا کہتے ہیں

ہے سمجھ کا یہ تری پھیر بتوں کو زاہد

کب خدا کہتے ہیں ہم شان خدا کہتے ہیں

سنتے ہی نیند نہ آ جائے تو میرا ذمہ

میرے افسانے کو اندوہ ربا کہتے ہیں

سر اڑا دیتے ہیں وہ تیغ جفا سے نشترؔ

پیار سے ہم جو انہیں جان وفا کہتے ہیں