Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا

شوق قدوائی

تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا

مانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھا

پھرتا ہوں میں بیدل مرا دل کیوں نہیں دیتے

کیا تم سے جوا کھیل کے میں ہار گیا تھا

سودے کو نہ پوچھ آیا تھا تو ناز سے جس دن

گیسو ترا اس دن مرے سر مار گیا تھا

دل سے نہ سہی آئے تو میت پہ وہ آخر

آتے نہ تو مرنا مرا بے کار گیا تھا

خود میں نے جتایا ہے اسے حشر کا میداں

مشہد ہی سے میں اس کا طرف دار گیا تھا

برچھا تھا کہ تیر اپنی نظر سے یہ ذرا پوچھ

سینے میں کچھ اس پار سے اس پار گیا تھا

مجبور ہوا وہ جو پڑا زلف کا پھندا

شوقؔ اس کے وہاں ہو کے گرفتار گیا تھا