Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تپش عشق یا تیر کی گرمی

عصمت اللہ عصمت بیگ

جس کسی نے ان دنوں کوئی دوا ایجاد کی

بس یہ سمجھو اس نے اک بستی نئی آباد کی

پھوڑ کر سر جیل میں بے چارہ مجنوں مر گیا

اور صدائیں ہر طرف ہیں یار زندہ باد کی

کیا بتاؤں اے طبیبو عشق کی تم کو تپش

بس سمجھ لو جیسے گرمی تیر اور خورداد کی

لیجئے آئے ہیں مجنوں مجھ کو دینے درس عشق

آپ کی صورت تو دیکھو ہت ترے استاد کی

قرض تو بے شک لیا پر ہم نے کس کس سے لیا

یاد کچھ آتا نہیں یہ کیفیت ہے یاد کی

قیس آخر مر گیا سوز درون عشق سے

کھا گئی افسوس اس پودے کو گرمی کھاد کی

دیکھنا آخر سر بازار رسوا کر دیا

روز واعظ تم دعا مانگا کرو اولاد کی

مادر گیتی نے عصمتؔ کچھ مری پروا نہ کی

ساس کرتی ہے خوشامد کہتے ہیں داماد کی