Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ایجاد غم ہوا دل مضطر کے واسطے

منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی

ایجاد غم ہوا دل مضطر کے واسطے

پیدا جنوں ہوا ہے مرے سر کے واسطے

کرتے ہو فکر غافلو کیا گھر کے واسطے

دنیا میں سب مقیم ہیں دم بھر کے واسطے

ہر شے میں جو کہ دیکھتے ہیں جلوہ دوست کا

وہ لوگ سجدہ کرتے ہیں پتھر کے واسطے

اس بت نے ایک بات نہ مانی شب وصال

لاکھوں دیے خدا و پیمبر کے واسطے

سن کر پیام وصل میں قاصد سے جی اٹھا

ہے معجزہ ضرور پیمبر کے واسطے

مژگاں کو تیری ہم نے جگہ اپنے دل میں دی

زیبا یہ میان ہے اسی خنجر کے واسطے

لکھتا ہوں اس پری کی صفت چشم شوخ کی

تار نگاہ حور ہو مسطر کے واسطے

بالش کی جا ہے مجھ کو ترا سنگ آستاں

کافی ہے خاک در مرے بستر کے واسطے

جاتا ہوں چین کاکل عنبر فشاں کو میں

سودا خریدتا ہے مجھے سر کے واسطے

جتنے تھے ظلم سب وہ جفا کار کر چکا

باقی رہے نہ چرخ ستم گر کے واسطے

کرتا ہوں روز ہجر میں تدبیریں دوستو

کیا کیا تسلیٔ دل مضطر کے واسطے

ساقی شراب اشک ہے یاں جام چشم میں

احسان اٹھائیں کیوں مے و ساغر کے واسطے

اے سحرؔ قدرداں جو نہ ہو کوئی شعر کا

تو زندگی ہے موت سخنور کے واسطے