Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئے

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئے

شکن کے عادی ہوئے خم کے خو پذیر ہوئے

خدنگ وار جو غمزے تھے اس کے چھٹپن میں

پر اب نظر میں جو آئے تو رشک تیر ہوئے

جھڑک دیا ہمیں کوچے میں اس نے ہر دم دیکھ

ہم اپنے دل میں کچھ اس دم خجل کثیر ہوئے

جو گاہ گاہ ادھر جاتے ہم تو رہتی قدر

گھڑی گھڑی جو گئے اس سبب حقیر ہوئے

نگہ کے لڑتے ہی ہنس کر کہا نظیرؔ اس نے

یہ باتیں چھوڑ دو کچھ سمجھو اب تو پیر ہوئے