Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

Mir Taqi Mir (1723–1810)

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ

یوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے

رہرو راہ خوفناک عشق

چاہیے پاؤں کو سنبھال رکھے

پہنچے ہر اک نہ درد کو میرے

وہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے

ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب

ملیے اس سے جو کوئی مال رکھے

بحث ہے ناقصوں سے کاش فلک

مجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے

سمجھے انداز شعر کو میرے

میرؔ کا سا اگر کمال رکھے