Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگے

بوم میرٹھی

جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگے

تنکے اڑا اڑ کر نشیمن کا پتہ دینے لگے

جب مری گستاخیوں کی وہ سزا دینے لگے

وصل کی شب لات گھونسہ بھی مزا دینے لگے

مانجھ کر وہ دانتوں کو جب مسکرا دینے لگے

چھوٹی موٹی سینکڑوں بجلی گرا دینے لگے

قتل کرنے کے بجائے یہ سزا دینے لگے

کھود کر گڈھا مجھے زندہ دبا دینے لگے

بے تحاشہ قبر پر کسلے بجا دینے لگے

میری مٹی کو ٹھکانے سے لگا دینے لگے

ان کے اک تھپڑ سے جب میں دم چرا کر پڑ گیا

ایسے گھبرائے کہ دامن سے ہوا دینے لگے

آپ تو مانگا کریں تھے میرے مرنے کی دعا

اب لگا مرنے تو جینے کی دعا دینے لگے

کیسا عاشق آپ تو مجھ کو سمجھتے ہیں قلی

ہر جگہ ہاتھوں میں میرے بسترہ دینے لگے

ہو گیا مجبور میں بھی اور دل ناکام بھی

وصل کی شب جب خدا کا واسطہ دینے لگے

کم نہیں ہے تارپیڈو سے ترے تیر نظر

چھید کر دل آگ سینے میں لگا دینے لگے

محروموں سے آپ کے جوبن کا عقدہ کھل گیا

آپ کی اٹھتی جوانی کا پتہ دینے لگے

بومؔ ہونا چاہئے بزم سخن میں وہ کلام

دوست کیا دشمن صدائے مرحبا دینے لگے