Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا

بیخود موہانی

جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا

پھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہا

کہتی ہے دل کے حال پہ گھبرا کے بے خودی

یہ آپ میں بھی آنے کے قابل نہیں رہا

اک جلوہ پیش پیش ہے اور بڑھ رہے ہیں ہم

اب کچھ خیال دوریٔ منزل نہیں رہا

دنیا یہی ہے شک ہے تو اس کو مٹا کے دیکھ

پھر کچھ نہیں جہان میں جب دل نہیں رہا

پوری جزا ملے گی اسی دل کو حشر میں

جس کو خیال شکوۂ قاتل نہیں رہا

تمکیں غضب ہے ساقیٔ دور الست میں

شاید خیال گرمیٔ محفل نہیں رہا

دنیا سے پوچھ دیکھ کوئی ذرہ دہر کا

تزئین کائنات سے غافل نہیں رہا

زینت پہ کائنات کی جانے لگی نظر

اب میں ترے خیال کے قابل نہیں رہا

بس کر اجڑ چکی ہیں امنگوں کی بستیاں

دنیا میں شاد آج کوئی دل نہیں رہا

افسردگی کی جان ہے آزردگی کی روح

جو ولولوں کی جان تھا وہ دل نہیں رہا

ہے کل کی بات تھا یہی دنیائے حسن و عشق

ویرانۂ ملال ہے اب دل نہیں رہا

بیخودؔ کسی کے ناز دوئی سوز کی قسم

کیسی نظر خیال بھی حائل نہیں رہا