Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئے

مرزا علی لطف

جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئے

دامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئے

اللہ رے قید خانۂ ہستی کہ دم کے ساتھ

ہر اک قدم پہ لاکھوں ہیں زنداں لگے ہوئے

رویا میں دیکھ مرقد مجنوں کو دہاڑ مار

تھے جائے گل درخت مغیلاں لگے ہوئے

بارے چھٹے اسیر بلا اس گلی میں آج

ہیں تودہ ہائے گنج شہیداں لگے ہوئے

یاران پیش رو ذرا ٹھہرو کہ جیوں جرس

ہم پیچھے پیچھے آتے ہیں نالاں لگے ہوئے

رکھ سوچ کر قدم مری وادی میں گرد باد

پاؤں سے اپنے ہیں یہ بیاباں لگے ہوئے

کوئی تو میرے ناصح دانا سے یہ کہو

دل چھوٹتے ہیں باتوں میں ناداں لگے ہوئے

کیا دن تھے وہ بھی لطفؔ کہ رہتے تھے مثل زلف

کانوں سے اس کے ہم سے پریشاں لگے ہوئے