Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے

مردان علی خاں رانا

جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے

قطرۂ اشک دیدۂ تر ہے

ابروئے یار دل کا خنجر ہے

مژۂ یار نوک نشتر ہے

چشم عاشق سے دو بہے دریا

ایک تسنیم ایک کوثر ہے

خانۂ دل ہے غیر سے خالی

شوق سے آؤ آپکا گھر ہے

قطعی آج فیصلہ ہوگا

تیری تلوار ہے مرا سر ہے

اب تو دھونی رما کے بیٹھے ہیں

در جاناں پے اپنا بستر ہے

طمع ہر اک کا دین و ایماں ہے

جس کو دیکھو وہ بندۂ زر ہے

خوب دل کھول کر جفا کر لو

بندہ مدت سے اس کا خوگر ہے

بام پر جلوہ گر ہے وہ شاید

کوئے جاناں میں شور محشر ہے

کرتا عالم کو آہ سے برہم

لیک رعناؔ کو یار کا ڈر ہے