Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے

گویا فقیر محمد

جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے

یہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہے

جو پہنچے ہاتھ زنجیروں کو توڑیں

گرچہ پاؤں اپنا درمیاں ہے

چمک لعل بدخشاں کی مٹا دے

ترے ہونٹوں پہ ایسا رنگ پاں ہے

تجھے کہتا ہوں سن او وحشت دل

وہاں لے چل جہاں وہ دل ستاں ہے

وہ ہوں نازک مزاج اے ہم صفیرو

رگ گل مجھ کو خار آشیاں ہے

موا جاتا ہوں میں طرز نگہ سے

ترے لب کی مسیحائی کہاں ہے

بلا کر اس سے دو باتیں تو سن لے

یہ کہتے ہیں کہ گویاؔ خوش بیاں ہے