Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیا

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیا

رہین دامن و منت کش حجاب آیا

نمود شام ہوئی وقت اضطراب آیا

جہان عشق و محبت میں انقلاب آیا

جنوں میں زیست تھی اپنی طلسم بیداری

قضا نے آ کے سلایا تو ہم کو خواب آیا

نہ دل میں درد ہی باقی ہے اب نہ آنکھ میں اشک

اخیر وقت ہے پایان اضطراب آیا

بس اب تمام ہوا انتظار قاصد کا

کہ زندگی کی طرف سے ہمیں جواب آیا

غضب تھی بزم میں ساقی کی طرز مستانہ

بھرا ہوا نہ کوئی ساغر شراب آیا

نظام عالم فرقت خلاف قدرت تھا

نہ ماہتاب ہی نکلا نہ آفتاب آیا

نظرؔ اقامت دنیا کی ختم مدت ہے

کہ ہم بھی پیر ہوئے وقت پا تراب آیا