Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا

بوم میرٹھی

جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا

تو سالے نے کہا ہنس کر کے ہاں ہاں ہو نہیں سکتا

بس اب بارہ برس کے ہو گئے ختنہ کرا ڈالو

مسلمانی نہ ہو جس کی مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ ہوگا قیس تو اس کی جگہ ہم جانشیں ہوں گے

کہ دیوانوں سے یہ خالی بیاباں ہو نہیں سکتا

کہو چارہ گروں سے ایک دم باہر نکل جائیں

کبھی ان سے مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتا

پڑیں جوتے ہزاروں سر پہ لیکن میں نہ نکلوں گا

تیرے کوچہ کے ہمسر باغ رضواں ہو نہیں سکتا

ابے صیاد کیوں جھوٹی تسلی مجھ کو دیتا ہے

قفس میں پھول رکھنے سے گلستاں ہو نہیں سکتا

شب وعدہ جو کرنا تھا میں کرتا ہی رہا ان سے

وہ کہتے ہی رہے پورا یہ ارماں ہو نہیں سکتا

لگا دے آگ ان کے گھر میں اور دشمن کے چھپر میں

ذرا سا کام تجھ سے آہ سوزاں ہو نہیں سکتا

حکیم و ڈاکٹر کو بومؔ صاحب کیوں بلاتے ہو

کبھی ان سے علاج درد ہجراں ہو نہیں سکتا