Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آدمی آدمی سے ملتا ہے

Jigar Moradabadi (1890–1960)

آدمی آدمی سے ملتا ہے

دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے

وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے

آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا

رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے

سلسلہ فتنۂ قیامت کا

تیری خوش قامتی سے ملتا ہے

مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا

ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے

کاروبار جہاں سنورتے ہیں

ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے

روح کو بھی مزا محبت کا

دل کی ہم سائیگی سے ملتا ہے