Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئی

مرزا محمد تقی ہوس

جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئی

ہوا دیوانوں میں جب غل بہار آئی بہار آئی

ہوا تھا مرگ سے غافل میں کس دن جوش وحشت میں

صبا کیوں لے کے میرے سامنے مشت غبار آئی

دکھائے رنج پیری کے اجل تیرے تغافل نے

تجھے آنا تھا پہلے آہ تو انجام کار آئی

ہمارے توسن عمر رواں کے تیز کرنے کو

شمیم زلف دوش باد صرصر پر سوار آئی

نہ پایا وقت اے زاہد کوئی میں نے عبادت کا

شب ہجراں ہوئی آخر تو صبح انتظار آئی

نہ کچھ خطرہ خزاں کا ہے نہ احسان بہار اس پر

عدم سے اپنی شاخ آرزو بے برگ و بار آئی

ہماری دیکھیو غفلت نہ سمجھے وائے نادانی

ہمیں دو دن کے بہلانے کو عمر بے مدار آئی

جو ننگ عشق ہیں وہ بو الہوس فریاد کرتے ہیں

لب زخم ہوسؔ سے کب صدائے زینہار آئی