Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاس

بیخود موہانی

جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاس

اٹھے آخر تک بگولے آہ اس محمل کے پاس

ہیں جگر میں تیرے ناوک کی قسم گنتی کے زخم

نام کو رستے ہوئے ناسور ہیں کچھ دل کے پاس

ایک منزل روح کو تا مرگ ہے ہر ایک سانس

یہ مسافر دور منزل سے ہے اور منزل کے پاس

موج خون کشتگاں ہے وحشت آموز خیال

دل لرزتا ہے کہ خنجر ہے ابھی قاتل کے پاس

مست دنیا مضطرب تھے شاد تھے اہل نیاز

جب بھنور سے بچ کے ڈوبیں کشتیاں ساحل کے پاس

بے نیازی اپنی سی دے ڈال پورا کر سوال

ورنہ ہے تیرا دیا سب کچھ ترے سائل کے پاس