Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

خیال نطق سے بیگانہ ہو تو کیا کہئے

محمد صادق ضیا

خیال نطق سے بیگانہ ہو تو کیا کہئے

لب خموش ہی افسانہ ہو تو کیا کہئے

میں جانتا ہوں کہ توہین وضع ہے مستی

یہی شریعت مے خانہ ہو تو کیا کہئے

جمال دوست کو دیوانگی سے کیا مطلب

دل اپنے آپ ہی دیوانہ ہو تو کیا کہئے

ہو کوئی اور تو اس سے گلا مناسب ہے

مگر جو دوست ہے بیگانہ ہو تو کیا کہئے

بغیر ساغر مے بھی ہے کیف کا امکان

ترا خیال ہی رندانہ ہو تو کیا کہئے

میں چاہتا ہوں کہوں رنج عشق کی روداد

سلوک حسن حریفانہ ہو تو کیا کہئے

عزیز دل سے زیادہ ہے مجھ کو عصمت راز

ہر اک طرف یہی افسانہ ہو تو کیا کہئے

مذاق بزم کی اصلاح ممکنات سے ہے

فروغ شمع ہی پروانہ ہو تو کیا کہئے

شباب دعوت رنگینیٔ نظر ہے ضیاؔ

مگر نظر ہی فقیہانہ ہو تو کیا کہئے