Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائے

Dagh Dehlvi (1831–1905)

دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائے

دو ہی جھٹکے جو ذرا زلف دوتا نے پائے

ہاتھ پائی ہوئی میخانے میں زاہد سے کہیں

ہم نے تسبیح کے بکھرے ہوئے دانے پائے

چھیڑ منظور نہ ہو تجھ کو تو مژگاں تیری

دل بے تاب کو انگلی نہ لگانے پائے

جل گیا کیا مری آتش قدمی سے جنگل

چار تنکے نہ کہیں باد صبا نے پائے

ہم نے اپنا دل گم گشتہ نہ پایہ کھو کر

ورنہ یاں ڈھونڈھنے والوں نے خزانے پائے

لا شب وعدہ اسے کھینچ کے اے جذبہ دل

حیلہ جو پاؤں میں منہدی نہ لگانے پائے

حور کے واسطے زاہد نے عبادت کی ہے

سیر تو جب ہے کہ جنت میں نہ جانے پائے