Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیا

ہجر ناظم علی خان

دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیا

اک مجھ سے کیا جہان سے بیگانہ ہو گیا

قاصد کو یہ ملا مرے پیغام کا جواب

تو بھی ہماری رائے میں دیوانہ ہو گیا

دیکھا جو ان کو بام پہ غش آ گیا مجھے

تازہ کلیم و طور کا افسانہ ہو گیا

ہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں

میں حسن اتفاق سے دیوانہ ہو گیا

دیکھا گیا نہ بزم میں سوز و گداز شمع

پھولوں کی پنکھیاں پر پروانہ ہو گیا

یوں سب سے پوچھتے ہیں وہ میرے جنوں کا حال

آنسو بہائے فرقت ساقی میں اس قدر

لبریز اپنی عمر کا پیمانہ ہو گیا

دل ان کے بس میں ہے مجھے کیا دل پر اختیار

کیسا رفیق عشق میں بیگانہ ہو گیا

جوش جنوں میں چھوڑ دئے سب نے اپنے گھر

آباد ان کے عہد میں ویرانہ ہو گیا

ان کو تو اپنی جلوہ نمائی سے کام ہے

اس کی خبر نہیں کوئی دیوانہ ہو گیا

اب ہر طرف رقیب پر اٹھتی ہیں انگلیاں

مشہور ان کے عشق کا افسانہ ہو گیا

اس درجہ ہجرؔ ہوش ربا ہے کسی کا حسن

جس کی نگاہ پڑ گئی دیوانہ ہو گیا