Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دل چرا کر نظر چرائی ہے

Dagh Dehlvi (1831–1905)

دل چرا کر نظر چرائی ہے

لٹ گئے لٹ گئے دہائی ہے

ایک دن مل کے پھر نہیں ملتے

کس قیامت کی یہ جدائی ہے

اے اثر کر نہ انتظار دعا

مانگنا سخت بے حیائی ہے

میں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرا

نارسائی عجب رسائی ہے

اس طرح اہل ناز ناز کریں

بندگی ہے کہ یہ خدائی ہے

پانی پی پی کے توبہ کرتا ہوں

پارسائی سی پارسائی ہے

وعدہ کرنے کا اختیار رہا

بات کرنے میں کیا برائی ہے

کب نکلتا ہے اب جگر سے تیر

یہ بھی کیا تیری آشنائی ہے

داغؔ ان سے دماغ کرتے ہیں

نہیں معلوم کیا سمائی ہے