Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیا

منشی ٹھاکر پرساد طالب

دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیا

بے خودی شب کو رہی وقت سحر ہوش آیا

تیرے جلوے کا نظارہ نہ ہوا بار دگر

بے خودی کے ہیں یہ معنی کہ نہ پھر ہوش آیا

زہر گیسو نے مجھے مار ہی ڈالا تھا مگر

لب جاں بخش کے صدقہ میں مجھے ہوش آیا

ساقیا مے کدۂ دہر میں وہ مے کش ہوں

مرتے دم تک مجھے اپنا بھی نہ کچھ ہوش آیا

کس لئے جام‌ و صراحی میں ہے ساقی تاخیر

ابر پر شور پئے خاطر مے نوش آیا

دل کو پھر لالہ رخوں سے ہوئی الفت پیدا

عہد پیری میں جوانی کا مجھے جوش آیا

اس قدر شوق شہادت ہے مجھے اے قاتل

تیرے کوچے میں جو آیا تو کفن پوش آیا

جو دہر دہر سے وہ بار گنہ لے کے گیا

گو جب آیا تھا عدم سے تو سبک دوش آیا

خلعتیں زیر زمیں کون پنہا دیتا ہے

باغ عالم میں جو گل آیا قبا پوش آیا

واعظا کر سر منبر نہ مذمت مے کی

کچھ بنائے نہ بنے گی جو یہاں جوش آیا

حشر کے دن جو گنہ گاروں کی کثرت دیکھی

قلزم رحمت باری میں عجب جوش آیا

جس نے مے خانہ دنیا میں ذرا بھی پی لی

آ گئی موت پہ طالبؔ نہ اسے ہوش آیا