Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعد

راجہ نوشاد علی خان

دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعد

جان جائے گی ہماری آپ کے جانے کے بعد

مجھ سے دیوانہ کو سمجھانا اسی کا کام ہے

خود سمجھ جائے گا ناصح مجھ کو سمجھانے کے بعد

تجھ سے پہلے مٹ چکے ہیں کیسے کیسے نامور

نام تیرا بھی نہ لے گا کوئی مر جانے کے بعد

میہماں ہوتے تھے جب وہ دل پہ بس رہتا نہ تھا

ایک دن آنے کے پہلے ایک دن جانے کے بعد

اٹھ گئے بالیں سے تم بیمار کا یہ حال تھا

آنکھ میں آنسو بھرے تھے ہوش میں آنے کے بعد

تجھ کو اے شیخ حرم کعبہ مبارک ہو ترا

دوسرا گھر ہم نہیں دیکھیں گے مے خانہ کے بعد

شرم سے گردن جھکا کر چٹکیاں لینے لگی

شوخیاں کرنے لگے پھر آپ شرمانے کے بعد

ہم کہا کرتے ہیں ان کے کوچہ میں ہر ایک سے

دفن کر دینا یہیں پر ہم کو مر جانے کے بعد

ظلم سے اپنے پشیمان آخرش ہونا پڑا

جھک گئیں ان کی نگاہیں لاش پر آنے کے بعد

ہو گئے سیراب پی کر خون دل اے عشق ہم

خوب آسودہ ہوئے لخت جگر کھانے کے بعد

مجھ کو مرنے کا نہیں غم رنج ہے اس بات کا

ظلم وہ کس پر کریں گے میرے مر جانے کے بعد

عشق میں افسردہ ہو کر دل کا ہوتا ہے وہ رنگ

پھول کا جو حال ہو جاتا ہے مرجھانے کے بعد

سر جھکا کر لاش پر آئے ہیں کس انداز سے

وہ دوا کرنے جو آئے بھی تو مر جانے کے بعد

راستے سے وہ پلٹ کر آ رہے ہیں کس لئے

کیا خیال آیا انہیں نوشادؔ گھر جانے کے بعد