Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کا

ناصری لکھنوی

باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کا

واہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کا

بے سبب کب ہے تڑپنا عاشق دلگیر کا

سینے سے پیکاں نکلتا ہے تمہارے تیر کا

نو گرفتاروں کی وحشت کا بھی ہو کچھ امتحاں

آج سننا چاہیے نالہ نئی زنجیر کا

باعث حیرت ہوا بیماری دل کا اثر

دیکھو اب تو رنگ اڑتا ہے مری تصویر کا

بس بس اے ظالم کہاں تک امتحان ضبط آہ

اب تو دم گھٹنے لگا ہے عاشق دلگیر کا

مر گیا ہے آپ کا وحشی اداسی چھائی ہے

دیدنی ہے آج عالم خانۂ زنجیر کا

دل بھی دھڑکا آپ کا زلفیں بھی بل کھانے لگیں

اور ابھی زنداں میں نالہ ہے مری زنجیر کا