Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی

مخمور دہلوی

دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی

وہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتی

اسے تو راہ میں ارباب ہمت چھوڑ دیتے ہیں

کسی کے ساتھ منزل تک تن آسانی نہیں جاتی

کسے ملتی ہیں وہ آنکھیں محبت میں جو روتی ہیں

مبارک ہیں وہ آنسو جن کی ارزانی نہیں جاتی

ابھرتا ہی نہیں دل ڈوب کر بحر محبت میں

جب آ جاتی ہے اس دریا میں طغیانی نہیں جاتی

گدائی میں بھی مجھ پر شان استغنا برستی ہے

مرے سر سے ہوائے تاج سلطانی نہیں جاتی

مقیم دل ہیں وہ ارمان جو پورے نہیں ہوتے

یہ وہ آباد گھر ہے جس کی ویرانی نہیں جاتی

کچھ ایسا پرتو حسن ازل نے کر دیا روشن

قیامت تک تو اب ذروں کی تابانی نہیں جاتی

کچھ ایسے برگزیدہ لوگ بھی ہیں جن کے ہاتھوں سے

چھڑا کر اپنا دامن پاک دامنی نہیں جاتی

ہجوم یاس میں بھی زندگی پر مسکراتا ہوں

مصیبت میں بھی میری خندہ پیشانی نہیں جاتی