Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے

Arzoo Lakhnavi (1873–1951)

دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے

سانس کیا لوں کہ ہوا دہر کی زہریلی ہے

بن گیا قطرۂ ناچیز ترقی سے گہر

ذات ہے ایک فقط نام کی تبدیلی ہے

لاگ نے جس کی مجھے پھونکا ہے اندر اندر

شمع اس آگ کی اک ہیئت تمثیلی ہے

مل کے مٹی تری چوکھٹ کی ہوا خاک سے پاک

جو لکیر اب مرے ماتھے کی ہے چمکیلی ہے

پھر اڑانا ہیں گریباں کے مجھی کو پرزے

ہاتھ بے کار ابھی تھے کی قبا سی لی ہے

آرزوؔ ہوگا یہ مقتل ہی عزا خانہ بھی

شفقی فرش زمیں کا ہے تو چھت نیلی ہے