Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کو

مرزا مسیتابیگ منتہی

دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کو

اللہ کرے قطع کہیں دست ہوس کو

دل دیتا ہوں میں قامت دل دار کو اپنا

لٹکاتا ہوں میں نخل محبت میں قفس کو

جیسا کہ یہ دل دام محبت میں پھنسا ہے

کم دیکھتا ہوں مرغ گرفتار قفس کو

نکلے ہیں خط و خال لب یار کے نزدیک

اللہ نے دیا شہد و شکر مور و مگس کو

دوڑاتی ہے یہ روح مری جسم کو ہر سو

اسوار اڑاتا ہے زمانے میں فرس کو

زخم دل شیدا ہوا اچھا نہ مسیحا

خیاط ازل سل نہ سکا چاک قفس کو

رہتے تھے ہم آغوش جوانی میں بتوں سے

اس پیری کے آتے ہی ترسنے لگے مس کو

کب پیچ سے اس رشتۂ الفت کے چھٹوں گا

توڑوں گا نہ جب تک کہ میں اس تار نفس کو

بیماری الفت سے جو میں بچ گیا ناصح

ٹل جاؤں گا اب کی کہیں دو چار برس کو

دامن کا نشاں ہے نہ گریباں کا پتا ہے

اے دست جنوں مانتا ہوں میں ترے بس کو

صیاد جو دیکھے مجھے الفت کی نظر سے

گلزار سے بہتر کہیں سمجھوں میں قفس کو

اے دل کبھی کہنے کا نہیں راز محبت

اس دشت میں دوڑا نہ طبیعت کے فرس کو

دل دیتا ہے اس طفل پری زاد کو ناداں

کیوں منتہیؔ شعلے سے بھڑاتا ہے تو خس کو