Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھا

عبد الہادی وفا

دو جہاں کو نگہ عجز سے اکثر دیکھا

ہم نے امید کو حرماں کے برابر دیکھا

طالع بے ہنری اوج فلک پر دیکھا

جس جگہ وہم نہ پہونچا تھا وہاں سر دیکھا

اس برے وقت میں بھی لاکھ سے اچھا ہوں میں

میں نے معشوق کے پردہ میں مقدر دیکھا

کیا کہوں قصۂ دلچسپیٔ حال ابتر

دوستوں نے مجھے اغیار سے بڑھ کر دیکھا

اے اجل خوب بتایا وہ قیامت ہوگی

جس کے آغوش میں تو نے دل مضطر دیکھا

بیکس ہائے تمنا نے سلایا ہے مجھے

پھر نہ جاگوں گا اگر خواب میں محشر دیکھا

یار جب پردہ نشیں ہے تو کہاں کا پردہ

پردہ یہ ہے کہ اسے پردہ سے باہر دیکھا

پاؤں پھیلائے ہیں بے جا ہوس دنیا نے

ہم نے دنیا ہی کو لپٹا ہوا بستر دیکھا

اس کھلے ظلم نے سب کھول دیے ہیں پردے

ہم نے دیکھا تجھے سو بار ستم گر دیکھا

ٹپکا پڑتا ہے رگ شوق سے خون حسرت

کیا وفاؔ دست قضا میں کوئی نشتر دیکھا