Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں

وزیر علی صبا لکھنؤی

دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں

پھول جاتے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤں

جب نہ دیکھے چار دن اس گل بدن کے ہاتھ پاؤں

سوکھ کر کانٹا ہوئے اہل چمن کے ہاتھ پاؤں

ہم وہ میکش ہیں جو ہوتا ہے ہمیں رنج خمار

ٹوٹتے ہیں ساقی پیماں شکن کے ہاتھ پاؤں

ان کے مقتولوں کی قبریں اس قدر کھودی گئیں

تھک کے تختہ ہو گئے ہر گورکن کے ہاتھ پاؤں

آتی جاتی چوٹ بھی سچ ہی نظر آتی نہیں

آج کل چلتے ہیں کیا اس تیغ زن کے ہاتھ پاؤں

خاکساری کا مزا ہوتا جو اے خسرو تجھے

آب شیریں سے دھلاتا کوہ کن کے ہاتھ پاؤں

ہتھکڑی بیڑی بڑی زوروں سے پہنائی مجھے

اے جنوں شل ہو گئے اہل وطن کے ہاتھ پاؤں

کاٹ ڈالا دست شاخ گل کو پائے سرو کو

باغباں نے دیکھ کر اس گل بدن کے ہاتھ پاؤں

توسن مشکیں سے جب اس ترک کی تشبیہ دی

جوڑ میں ٹھہرے نہ آہوۓ ختن کے ہاتھ پاؤں

اپنے گیسوئے رسا سے یار رسی کی طرح

باندھتا ہے عاشق چاہ ذقن کے ہاتھ پاؤں

نوجوانان چمن اس گل سے تھراتے ہیں یوں

جس طرح کانپیں کسی پیر کہن کے ہاتھ پاؤں

شب کو گرم رقص ہوتا ہے جو وہ آتش مزاج

شمع ساں جلتے ہیں سارے انجمن کے ہاتھ پاؤں

ہتھکڑی بیڑی جو مجھ مجنوں کی اتری بعد مرگ

قبر میں ٹکڑے اڑائیں گے کفن کے ہاتھ پاؤں

ہو گئی خم ٹھونک کر دیو خزاں کے سامنے

کیا کسیلے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤں

شاہد مقصد تمہیں بے واسطہ مل جائے گا

اے صباؔ چومو نہ شیخ و برہمن کے ہاتھ پاؤں