Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح

امانت لکھنوی

رواں دواں نہیں یاں اشک چشم تر کی طرح

گرہ میں رکھتے ہیں ہم آبرو گہر کی طرح

سنی صفت کسی خوش چشم کی جو مردم سے

خیال دوڑ گیا آنکھ پر نظر کی طرح

چھپی نہ خلق خدا سے حقیقت خط شوق

اڑا جہاں میں کبوتر مرا خبر کی طرح

سوائے یار نہ دیکھا کچھ اور عالم میں

سما گیا وہ مری آنکھ میں نظر کی طرح

عدم کی راہ میں کھٹکا رہا جہنم کا

سفر نے دل کو جلایا مرے سقر کی طرح

کھلے جو سب تو بندھا تار میٹھی باتوں کا

شکر گرہ میں وہ رکھتے ہیں نیشکر کی طرح

وہ عندلیب ہوں شہپر جو میرا مل جائے

چڑھائیں سر پہ سلاطیں ہما کے پر کی طرح

زکوٰۃ دے زر گل کی بہار میں گلچیں

چمن میں پھول لٹا اشرفی کے زر کی طرح

گری ہے چھٹ کے جو زانو پہ شام کو افشاں

ستارے یار کے دامن میں ہیں سحر کی طرح

مشاعرے کا امانتؔ ہے کس کو ہجر میں ہوش

کہاں کے شعر کہاں کی غزل کدھر کی طرح