Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کر

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کر

طبیعت زندہ دل رکھتی ہے پیری میں جواں ہو کر

چھپے تھے قبر میں گردش زدہ کیا شادماں ہو کر

یہاں بھی ساتھ ہے دوران سرکا آسماں ہو کر

ہوا ہے شہرہ داغوں کا نثار گل رخاں ہو کر

اڑی بوئے وفا میری نسیم بوستاں ہو کر

جھکے گی رفتہ رفتہ شاخ نخل قد کماں ہو کر

کھنچے گا طول فرقت کا زہ تیر فغاں ہو کر

مشابہ کر دیا کیوں ضعف نے ان کی نزاکت سے

مجھے خود اپنے اوپر رشک آیا ناتواں ہو کر

گئی رونق بھی چہرے کی حواس و عقل جاتے ہیں

اڑا سب رنگ رخ وحشت میں گرد کارواں ہو کر

زمیں پر سوزش غم سے گرے گا آسماں جل کر

شرار دل چلا سر حلقۂ دور فغاں ہو کر

تصدق ان پہ ہوتا ہوں جو شعلے دل سے اٹھتے ہیں

بسر کرتا ہوں میں پروانۂ شمع فغاں ہو کر

فنا ہو کر کہیں مٹتی ہے یا رب شورش وحشت

فغاں کرتا ہوں میں زنجیر باب لا مکاں ہو کر

خدا سمجھے ہماری آہ سوزاں سے جدائی میں

کہ ساری دل کی طاقت اڑ گئی منہ سے دھواں ہو کر

دل نالاں نے ہم سایوں کو بھی دشمن کیا اپنا

رہا کرتے ہیں ہم بتیس دانتوں میں زباں ہو کر

ہمیشہ سے نظرؔ ہم محو یاد روئے روشن ہیں

چمک اس درد کی رسی سے ہم دل میں نور جاں ہو کر