Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے

اقبال سہیل

زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے

تجلی گاہ ایمن ہے دل دیوانہ برسوں سے

کچھ ایسا ہے فریب نرگس مستانہ برسوں سے

کہ سب بھولے ہوئے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے

وہ چشم فتنہ گر ہے ساقئ مے خانہ برسوں سے

کہ باہم لڑ رہے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے

نہ اب منصور باقی ہے نہ وہ دار و رسن لیکن

فضا میں گونجتا ہے نعرۂ مستانہ برسوں سے

چمن کے نونہال اس خاک میں پھولیں پھلیں کیونکر

یہاں چھایا ہوا ہے سبزۂ بیگانہ برسوں سے

یہ آنکھیں مدتوں سے خوگر برق تجلی ہیں

نشیمن بجلیوں کا ہے مرا کاشانہ برسوں سے

ترے قرباں ادھر بھی ایک جھونکا ابر رحمت کا

جبینوں میں گرہ ہے سجدۂ شکرانہ برسوں سے

سہیلؔ اب کس کو سجدہ کیجئے حیرت کا عالم ہے

جبیں خود بن گئی سنگ در جانانہ برسوں سے