Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میں

منشی شیو پرشاد وہبی

سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میں

ہر ایک گل نظر آتا ہے خار آنکھوں میں

بتاؤ کس کا ہوا جام آرزو لبریز

کہ نشہ کا ہے ابھی تک خمار آنکھوں میں

یہ کس کے دید کی مشتاق ہے دم آخر

کہ میری روح کو ہے انتظار آنکھوں میں

جو چاہتے ہو عصا ٹیک کر اٹھے بیمار

لگاؤ سرمۂ دنبالہ دار آنکھوں میں

وہ رشک گل جو نہیں ہے ہمارے پہلو میں

برنگ خار سے فصل بہار آنکھوں میں

تمہاری دید کے سودے میں آ گیا سو بار

تڑپ تڑپ کے دل بے قرار آنکھوں میں

اسی سبب سے تو کھلتی نہیں ہے آنکھ مری

پھرا ہی کرتی ہے تصویر یار آنکھوں میں

میں دیکھتا نہیں بے وجہ سبزہ نوخیز

کبھی ہے سبزۂ خط کی بہار آنکھوں میں

مثال مردمک چشم ہے یہ مد نظر

رہیں حضور ہی لیل و نہار آنکھوں میں

دعا یہ رہتی ہے وہبیؔ کہ ان کے تلوے کا

لگاؤں سرمے کی صورت غبار آنکھوں میں