Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھا

سید یوسف علی خاں ناظم

بر سر لطف آج چشم دل ربا تھی میں نہ تھا

ڈھونڈھتی مجھ کو نگاہ آشنا تھی میں نہ تھا

یار کو مد نظر مشق جفا تھی میں نہ تھا

وائے قسمت کل وہاں میری قضا تھی میں نہ تھا

میرے ہوتے بے تکلف ہاتھا پائی غیر سے

قابل اس رتبے کے ظالم کیا حنا تھی میں نہ تھا

آہ میری نارسا فریاد میری بے اثر

نیند اڑا دی جس نے تیری وہ ہوا تھی میں نہ تھا

یاد فرمانا تھا مجھ کو بھی دم گلگشت باغ

ساتھ چلنے کو جلو میں کیا صبا تھی میں نہ تھا

اے پری پابوس سے محروم کیوں رکھا مجھے

خوں گرفتہ اس چمن میں کیا حنا تھی میں نہ تھا

وائے قسمت ڈھونڈتی تھی کل مجھے شمشیر یار

رحمت عام اس کی سر گرم عطا تھی میں نہ تھا

جام مینا بادہ ساقی چنگ دف بربط رباب

نہر گلشن چاندنی سبزہ فضا تھی میں نہ تھا

اپنے کوچے میں کیا ہوتا مجھے جاروب کش

صاحب اس خدمت کے قابل کیا صبا تھی میں نہ تھا

توڑ کر افلاک جو پہنچی سر عرش بریں

قدسیو وہ میری آہ نارسا تھی میں نہ تھا

عمر رفتہ تو ہی مجھ واماندہ کا سن لے پیام

قافلے والوں سے کہہ دینا کہ ساتھی میں نہ تھا

صبح وصل آزردگی مجھ سے ہی کس تقصیر پر

وجہ ناراضی تو میری التجا تھی میں نہ تھا

جب گلہ آشوب پردازوں کا اس بت سے کیا

بول اٹھا شوخی سے چشم فتنہ زا تھی میں نہ تھا

جام مینا بادہ ساقی تھا یہ سب ناظمؔ وہاں

پر مری قسمت کہ خالی میری جا تھی میں نہ تھا