Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہے

بوم میرٹھی

شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہے

ادھر ان کی نظر ہے خود بخود شرمائی جاتی ہے

ابے سالے رہا ہے رات بھر دشمن کے پہلو میں

ترے چہرے سے کچھ شرمندگی سی پائی جاتی ہے

دیا کرتے ہیں مجھ کو آتشیں رخسار کا بوسہ

سمجھتا ہوں طبیعت اب میری گرمائی جاتی ہے

بڑھاپا ہے کہ مجھ پر رات دن وہ آئے جاتا ہے

جوانی ہے کہ تجھ پر رات اور دن چھائی جاتی ہے

شب وعدہ انہیں سختی سے میں لپٹا تو فرمایا

اجی چھوڑو طبیعت اب میری گھبرائی جاتی ہے

یہ ایسا کام ہے جو سات پردوں میں نہیں چھپتا

کہیں بھی ہوں ہزاروں کوس تک رسوائی جاتی ہے

میری خلوت میں رکھی ہیں برہنہ تیری تصویریں

طبیعت بس انہیں سے رات دن بہلائی جاتی ہے

شب وعدہ بھی کوشش کر رہے ہیں مجھ سے بچنے کی

کچھ ایسی بات میرے کان میں سمجھائی جاتی ہے

ابے میں جانتا ہوں اس میں کوئی راز پنہاں ہے

رقیبوں سے میرے سر کی قسم جو کھائی جاتی ہے

ہزاروں رات گزریں اس طرح سے دل کو بہلاتے

وہ اب آتے ہیں اب تشریف ان کی آئی جاتی ہے

زمانہ ہو گیا اس کام کو اس بات کو گزرے

مگر چہرہ پہ اب بھی شرم سی کچھ پائی جاتی ہے

جوانی کا زمانہ پھر جوانی کا زمانہ ہے

بچے انسان کتنا ہی طبیعت آئی جاتی ہے

کلام اچھا سنائے یا سنائے فحش وہ غزلیں

جناب بومؔ سے محفل میں رونق آئی جاتی ہے