Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئی

منشی شیو پرشاد وہبی

شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئی

نقاب اٹھتے اٹھتے سحر ہو گئی

شب وصل کیا مختصر ہو گئی

پلک مارتے ہی سحر ہو گئی

اگر ان کی ترچھی نظر ہو گئی

مری جان سینہ سپر ہو گئی

نہ کچھ مو شگافوں سے عقدہ کھلا

معما تمہاری کمر ہو گئی

لگی ہے جو اشکوں کی ہر دم جھڑی

گھٹا کیا مری چشم تر ہو گئی

حرم چھوڑ کر میں گیا سوئے دیر

طبیعت کدھر سے کدھر ہو گئی

نہیں رحم اس سنگ دل کو ذرا

مری آہ کیا بے اثر ہو گئی

چھپایا بہت عشق ہم نے مگر

انہیں سب سے پہلے خبر ہو گئی

خبر لی نہ اس غیرت‌ ماہ نے

تڑپتے رہے رات بھر ہو گئی

نہیں کاٹے کٹتی ہے فرقت کی شب

گھڑی مجھ کو اک اک پہر ہو گئی

چھوئے پاؤں میں نے جو اس شوخ کے

حنا باعث درد سر ہو گئی

بتو تم کو سجدے کیے اس قدر

ہماری جبیں سنگ در ہو گئی

کیا اس شکر لب نے اعجاز یہ

بجائی جو نے نیشکر ہو گئی

جمایا جو وہبیؔ نے اپنا قدم

لڑائی محبت کی سر ہو گئی