Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھ

بوم میرٹھی

ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھ

رکھ دیا باندھ کے چھپر میں اسے تیر کے ساتھ

غیر کو کرکے رہا یار بھی تدبیر کے ساتھ

دے دیا سنکھیا تھوڑا سا اسے کھیر کے ساتھ

مرشدی جان کا منہ جس نے کیا تھا کالا

آج بھاگی ہے مرا دن بھی اسی پیر کے ساتھ

وصل کا نیم مزہ ہو گیا حاصل مجھ کو

رات بھر سویا لپٹ کر تری تصویر کے ساتھ

کی مقدر کی شکایت تو حرامی نے کہا

تیری تقدیر کا لکھا تری تقدیر کے ساتھ

اس طرح پھرتا ہوں اس شوخ کے پیچھے پیچھے

جیسے اتوار لگا رہتا ہے ہر پیر کے ساتھ

لے کے اس شوخ کو آرام سے چھت پر سویا

غیر کو ڈال دیا باندھ کے شہتیر کے ساتھ

پھر تو حاصل ہو مزہ وصل کا دونا مجھ کو

عقد ہو جائے اگر یار کی ہمشیر کے ساتھ

کمسنی ہی میں ہوا شوق اسیری پیدا

برسوں کھیلا ہوں میں دروازے کی زنجیر کے ساتھ

اس طرح جنبشیں دے دے کے نکالا اس کو

آ گیا دل بھی مرا کھینچ کے ترے تیر کے ساتھ

بومؔ صاحب کا یہی مشغلہ ہے آہٹ پر

دل کو بہلاتا ہے ہر دم تری تصویر کے ساتھ