Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا

اثر صہبائی

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا

لے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گا

عارض گل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گلچیں

ایک جھونکا ہوں فقط سن سے گزر جاؤں گا

اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر

میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا

دیکھ جی بھر کے مگر توڑ نہ مجھ کو گلچیں

ہاتھ بھی تو نے لگایا تو بکھر جاؤں گا

ایک قطرہ ہوں مگر سیل محبت سے ترے

ہو سکے جو نہ سمندر سے بھی کر جاؤں گا

دور گلشن سے کسی دشت میں لے جا صیاد

ہم صفیروں کے ترانوں میں تو مر جاؤں گا

صحن گلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثرؔ

اڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا