Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہو

منشی ٹھاکر پرساد طالب

غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہو

جو گرفتار محبت ہے وہ آزاد نہ ہو

آگ اس گھر میں لگے تجھ سے جو آباد نہ ہو

خاک ہو جائے وہ دل جس میں تری یاد نہ ہو

بھول جانے سے ترے مجھ کو یہ ہوتا ہے یقیں

کیا عجب موت کو بھی شکل مری یاد نہ ہو

لے اڑی ہے تو اسے اس کی گلی میں پہونچا

اے صبا خاک ہماری کہیں برباد نہ ہو

دم میں سو رنگ بدلتا ہوں تپ فرقت میں

کیسے عاجز مری تصویر میں بہزاد نہ ہو

خواب میں بھی رہے اس زلف مسلسل کا خیال

یا خدا قید محبت سے دل آزاد نہ ہو

عقل سے کام نہ رکھے کبھی عاشق تیرا

بندۂ پیر مغاں قائل زہاد نہ ہو

بیڑیاں کتنی ہی تنکوں کی طرح توڑی ہیں

دست وحشت کہیں شاکی ترا حداد نہ ہو

بے طرح باغ میں گلچیں نے ہوا باندھی ہے

نکہت گل کہیں گلزار میں برباد نہ ہو

شب کا ہنگام ہے راحت سے وہ آرام کریں

گوش ضو ان کے الٰہی مری فریاد نہ ہو

طالباؔ مرنے پہ راضی ہوں مگر خوف یہ ہے

قتل کے بعد بھی کوئی ستم ایجاد نہ ہو